عکس جا بہ جا اپنی ذات کے گراتا ہے

جعفر شیرازی

عکس جا بہ جا اپنی ذات کے گراتا ہے

جعفر شیرازی

MORE BYجعفر شیرازی

    عکس جا بہ جا اپنی ذات کے گراتا ہے

    کون آسمانوں سے آئنے گراتا ہے

    میں نے روپ دھارا ہے اس کی روح کا اور وہ

    میرے نقش ہی میرے سامنے گراتا ہے

    عمر بھر اٹھائے گا دکھ مرے بکھرنے کا

    آنکھ کی بلندی سے کیوں مجھے گراتا ہے

    شعلۂ محبت اور آب اشک اے ناداں

    روشنی کو دریا میں کس لئے گراتا ہے

    وہ ہوا کا جھونکا بھی میرا سخت دشمن ہے

    شاخ سے جو پتے کو زور سے گراتا ہے

    جذب کر نہ لے جعفرؔ سوچ لہر کی تجھ کو

    تو کہاں سمندر میں کنکرے گراتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY