الگ الگ تاثیریں ان کی، اشکوں کے جو دھارے ہیں

اجمل صدیقی

الگ الگ تاثیریں ان کی، اشکوں کے جو دھارے ہیں

اجمل صدیقی

MORE BYاجمل صدیقی

    الگ الگ تاثیریں ان کی، اشکوں کے جو دھارے ہیں

    عشق میں ٹپکیں تو ہیں موتی، نفرت میں انگارے ہیں

    تم سے مل کر کھل اٹھتا تھا، تم سے چھوٹ کے پھیکا ہوں

    اے رنگریز مرے چہرے کے سارے رنگ تمہارے ہیں

    گرمی کی لو میں تپنے کے بعد ہی پانی کا ہے مزہ

    تجھ کو جیتنا آساں تھا، ہم جان کے تجھ کو ہارے ہیں

    اے پروائی میری خوشبو اس چوکھٹ کے دم سے ہے

    تو بھی گزر کے دیکھ جہاں میں نے کچھ لمحے گزارے ہیں

    منہ سے بتاؤ یا نہ بتاؤ تم ہم کو دل کی باتیں

    جان من یہ نین تمہارے، یہ جاسوس ہمارے ہیں

    ایسی بات ملن میں کب ہوگی جیسی اس پل میں ہے

    سب کے بیچ میں میں ہوں، وہ ہے اور خاموش اشارے ہیں

    تیرے منہ پر تیری ہم نے کبھی نہ کی تعریف ذرا

    لکھنے بیٹھے تو کاغذ پر رکھ دئے چاند ستارے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY