اللہ رے فیض ایک جہاں مستفید ہے

بیدم شاہ وارثی

اللہ رے فیض ایک جہاں مستفید ہے

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    اللہ رے فیض ایک جہاں مستفید ہے

    ہر مست میرے پیر مغاں کا مرید ہے

    واعظ عبث یہ ذکر عذاب شدید ہے

    اک توبہ قفل رحمت حق کی کلید ہے

    وحشت نے ہم کو جامۂ خاکی پہنا دیا

    اے عقل اب یہ کاہے کی قطع و برید ہے

    اے رہروان جادۂ الفت بڑھے چلو

    یہ کس نے کہہ دیا ہے کہ منزل بعید ہے

    کیونکر نہ قرب حق کی طرف دل مرا کیجیے

    گردن اسیر حلقۂ حبل الورید ہے

    اب جام جم کی مجھ کو ضرورت نہیں رہی

    وہ دل ملا ہے جس میں دو عالم کی دید ہے

    واللیل ہے کہ زلف معنبر حضور کی

    یہ روئے پاک ہے کہ کلام مجید ہے

    ہلکی سی اک خراش ہے قاصد کے حلق پر

    یہ خط جواب خط ہے کہ خط کی رسید ہے

    خنجر بکف وہ کہتے ہیں اب آئے سامنے

    کس کو خیال وصل ہے ارمان دید ہے

    مجھ خستہ دل کی عید کا کیا پوچھنا حضور

    جن کے گلے سے آپ ملے ان کی عید ہے

    تو دیکھے اور بندے پہ تیرے عذاب ہو

    یارب یہ تیری شان کرم سے بعید ہے

    شیشے کا معتقد ہے ارادت ہے جام سے

    کس پیر مے فروش کا بیدمؔ مرید ہے

    مأخذ :
    • کتاب : jigar parah armagaan bedam shaah (Pg. 30)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے