امن کی خاطر جنگی منظر دفن کیا

محمد صادق جمیل

امن کی خاطر جنگی منظر دفن کیا

محمد صادق جمیل

MORE BYمحمد صادق جمیل

    امن کی خاطر جنگی منظر دفن کیا

    میں نے شیشہ اس نے پتھر دفن کیا

    پہلے ایک دبائی فائل یادوں کی

    رفتہ رفتہ سارا دفتر دفن کیا

    ننھے پھول کا بوجھ ہی کتنا ہوتا ہے

    لیکن سارے شہر نے مل کر دفن کیا

    میری آنکھیں بنجر ہونے والی تھیں

    ان میں جب کل رات سمندر دفن کیا

    پہلے قبر بنائی سارے خوابوں کی

    آنکھوں کو پھر اس کے برابر دفن کیا

    ہم سا سادہ ہوگا کون زمانے میں

    کمتر کو اپنایا بہتر دفن کیا

    زیست کا دوسرا منظر دیکھنے کی خاطر

    جلدی جلدی پہلا منظر دفن کیا

    اتنے ہم شفاف جمیلؔ ہوئے ڈر کر

    ایک لحد میں اندر باہر دفن کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY