انا کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر جاتا

قیصر صدیقی

انا کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر جاتا

قیصر صدیقی

MORE BYقیصر صدیقی

    انا کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر جاتا

    اگر میں ٹوٹ نہ جاتا بکھر بکھر جاتا

    مری تلاش میں نکلی تھی آفتاب کی فوج

    جو میں گپھا سے نکلتا تو آج مر جاتا

    میں جان کر نظر انداز کر گیا ورنہ

    ترا لباس سر انجمن اتر جاتا

    کہیں سے کوئی کرن ہی نہ آ سکی ورنہ

    یہ تیرگی کا کھنڈر روشنی سے بھر جاتا

    زمین ہی مرا رستہ زمین ہی منزل

    زمین چھوڑ کے جاتا تو میں کدھر جاتا

    وہاں تو خود ہی چٹخنے لگی ہیں دیواریں

    اگر وہ آئنہ بنتے تو میں سنور جاتا

    کچھ اتنے زور کا آیا تھا زلزلہ کل رات

    اگر میں جاگ نہ جاتا تو خواب مر جاتا

    کسی کا قرض ہے مجھ پر یہ جانتا ہوں مگر

    کوئی گواہ نہ ہوتا تو میں مکر جاتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY