اندھے بدن میں یہ سحر آثار کون ہے

نجیب احمد

اندھے بدن میں یہ سحر آثار کون ہے

نجیب احمد

MORE BYنجیب احمد

    اندھے بدن میں یہ سحر آثار کون ہے

    تو بھی نہیں تو مجھ میں شرربار کون ہے

    وہ کون ہے جو جاگتا ہے میری نیند میں

    اسرار میں ہوں صاحب اسرار کون ہے

    کس نے وفا کے نام پہ دھوکا دیا مجھے

    کس سے کہوں کہ میرا گنہ گار کون ہے

    سب نے گلے لگا کے گلے سے جدا کیا

    پہچان ہی نہیں کہ ریاکار کون ہے

    پھر یوں ہوا کہ مجھ پہ ہی دیوار گر پڑی

    لیکن نہ کھل سکا پس دیوار کون ہے

    میری صدا میں کس کی صدائیں ہیں موجزن

    ندی ہوں میں اگر تو مرے پار کون ہے

    محبوس سب ہیں مصلحتوں کے حصار میں

    لیکن خود اپنی دھن کا گرفتار کون ہے

    ہر آنکھ میں نجیبؔ ہیں سپنے بسے ہوئے

    اس جاگتے دیار میں بے دار کون ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Ibaraten (Pg. 119)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY