اندھیری بستیاں روشن منارے ڈوب جائیں گے

علی اکبر عباس

اندھیری بستیاں روشن منارے ڈوب جائیں گے

علی اکبر عباس

MORE BYعلی اکبر عباس

    اندھیری بستیاں روشن منارے ڈوب جائیں گے

    زمیں روتی رہی تو شہر سارے ڈوب جائیں گے

    جھلس دیں گی جو صحرائی ہوائیں ریشمی سائے

    دھوئیں کے زہر میں رنگیں نظارے ڈوب جائیں گے

    ابھی سے کشتیاں سب ساحلوں کی سمت رخ موڑیں

    کہ جب طوفان آیا پھر اشارے ڈوب جائیں گے

    بڑھے گی ان کی لو کوئی اگر سینچے حرارت سے

    برستی برف میں سارے شرارے ڈوب جائیں گے

    یوں ہی پلتے رہے گر ہشت پا اس جھیل کی تہہ میں

    کسی دن سطح پر ہنستے شکارے ڈوب جائیں گے

    فریب ماہ و انجم سے نکل جائیں تو اچھا ہے

    ذرا سورج نے کروٹ لی یہ تارے ڈوب جائیں گے

    چٹانوں پر کریں کندہ نشانی اپنے ہونے کی

    سنہرے کاغذوں کے گوشوارے ڈوب جائیں گے

    مآخذ:

    • کتاب : Ber Aab e Neel (Pg. 61)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY