انجام محبت سے میں بیگانہ نہیں ہوں

منظر لکھنوی

انجام محبت سے میں بیگانہ نہیں ہوں

منظر لکھنوی

MORE BYمنظر لکھنوی

    انجام محبت سے میں بیگانہ نہیں ہوں

    دیوانہ بنا پھرتا ہوں دیوانہ نہیں ہوں

    دم بھر میں جو ہو ختم وہ افسانہ نہیں ہوں

    انسان ہوں انسان میں پروانہ نہیں ہوں

    ساقی تری آنکھوں کو سلامت رکھے اللہ

    اب تک تو میں شرمندۂ پیمانہ نہیں ہوں

    ہو بار نہ خاطر پہ تو ناصح کہوں اک بات

    سمجھا لیں جسے آپ وہ دیوانہ نہیں ہوں

    بربادیوں کا غم نہیں غم ہے تو یہ غم ہے

    مٹ کر بھی میں خاک در جانانہ نہیں ہوں

    توبہ ترے دامن پہ جنوں خیز نگاہیں

    ہوں تو مگر اب اتنا بھی دیوانہ نہیں ہوں

    سب کچھ مرے ساقی نے دیا ہے مجھے منظرؔ

    محتاج مے و شیشہ و پیمانہ نہیں ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY