اپنا عہد وفا نبھاتا ہوں

رخسار ناظم آبادی

اپنا عہد وفا نبھاتا ہوں

رخسار ناظم آبادی

MORE BYرخسار ناظم آبادی

    اپنا عہد وفا نبھاتا ہوں

    اب اسے روز گنگناتا ہوں

    میری ہمت نہ پوچھئے صاحب

    ریت پر کشتیاں چلاتا ہوں

    دو فریقوں کے درمیاں اکثر

    میں محبت کے پل بناتا ہوں

    میری امداد اور کچھ بھی نہیں

    میں فقط حوصلے بڑھاتا ہوں

    آج کل پنسلوں سے کاغذ پر

    دھوپ میں روٹیاں بناتا ہوں

    میں کبھی دشمنی نہیں کرتا

    اور ہو جائے تو نبھاتا ہوں

    فیصلے اپنے چھوڑ کر ان پر

    ظرف لوگوں کے آزماتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY