اپنا گھر چھوڑ کے ہم لوگ وہاں تک پہنچے

اقبال عظیم

اپنا گھر چھوڑ کے ہم لوگ وہاں تک پہنچے

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    اپنا گھر چھوڑ کے ہم لوگ وہاں تک پہنچے

    صبح فردا کی کرن بھی نہ جہاں تک پہنچے

    میں نے آنکھوں میں چھپا رکھے ہیں کچھ اور چراغ

    روشنی صبح کی شاید نہ یہاں تک پہنچے

    بے کہے بات سمجھ لو تو مناسب ہوگا

    اس سے پہلے کہ یہی بات زباں تک پہنچے

    تم نے ہم جیسے مسافر بھی نہ دیکھے ہوں گے

    جو بہاروں سے چلے اور خزاں تک پہنچے

    آج پندار تمنا کا فسوں ٹوٹ گیا

    چند کم ظرف گلے نوک زباں تک پہنچے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY