اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دے

بیدم شاہ وارثی

اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دے

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دے

    ہر قطرۂ دل کو قیس بنا ہر ذرے کو محمل کر دے

    دنیائے حسن و عشق مری کرنا ہے تو یوں کامل کر دے

    اپنے جلوے میری حیرت نظارے میں شامل کر دے

    یاں طور و کلیم نہیں نہ سہی میں حاضر ہوں لے پھونک مجھے

    پردے کو اٹھا دے مکھڑے سے برباد سکون دل کر دے

    گر قلزم عشق ہے بے ساحل اے خضر تو بے ساحل ہی سہی

    جس موج میں ڈوبے کشتئ دل اس موج کو تو ساحل کر دے

    اے درد عطا کرنے والے تو درد مجھے اتنا دے دے

    جو دونوں جہاں کی وسعت کو اک گوشۂ دامن دل کر دے

    ہر سو سے غموں نے گھیرا ہے اب ہے تو سہارا تیرا ہے

    مشکل آساں کرنے والے آسان مری مشکل کر دے

    بیدمؔ اس یاد کے میں صدقے اس درد محبت کے قرباں

    جو جینا بھی دشوار کرے اور مرنا بھی مشکل کر دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے