اپنے احسانوں کا نیلا سائباں رہنے دیا

عبرت مچھلی شہری

اپنے احسانوں کا نیلا سائباں رہنے دیا

عبرت مچھلی شہری

MORE BYعبرت مچھلی شہری

    اپنے احسانوں کا نیلا سائباں رہنے دیا

    چھین لی چھت اور سر پر آسماں رہنے دیا

    آج اس کی بے زبانی نے مجھے سمجھا دیا

    کس لئے فطرت نے گل کو بے زباں رہنے دیا

    زندگی تو کیا اثاثہ تک نہیں باقی بچا

    قاتلوں نے اب کے بس خالی مکاں رہنے دیا

    خوف رسوائی سے میں نے خط جلا ڈالا مگر

    جانے کیوں اس چاند سے لب کا نشاں رہنے دیا

    دوستی کو اپنی مجبوری نہیں سمجھا کبھی

    فاصلہ میں نے برابر درمیاں رہنے دیا

    بے گناہی کی صفائی دے بھی سکتا تھا مگر

    کچھ سمجھ کر میں نے اس کو بد گماں رہنے دیا

    آگ کے بازی گروں نے اب کے کھیل ایسا کھیلا

    شہر کی تقدیر میں خالی دھواں رہنے دیا

    کیا سیاسی چال ہے یہ ظالمان وقت کی

    لے لیا سب کچھ مگر اک خوف جاں رہنے دیا

    چونک چونک اٹھتا ہوں میں راتوں کو عبرتؔ خوف سے

    خواب اس نے میری آنکھوں میں کہاں رہنے دیا

    مأخذ :
    • کتاب : Aansuwon Ki Barat (Pg. 41)
    • Author : Ibrat Machhali Shahri
    • مطبع : News Town Publishers (2013)
    • اشاعت : 2013

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے