اپنے غریب دل کی بات کرتے ہیں رائیگاں کہاں

ارم لکھنوی

اپنے غریب دل کی بات کرتے ہیں رائیگاں کہاں

ارم لکھنوی

MORE BYارم لکھنوی

    اپنے غریب دل کی بات کرتے ہیں رائیگاں کہاں

    یہ بھی نہ ہم سمجھ سکے اپنا کوئی یہاں کہاں

    ان کے لیے وہ آسمان میرا گزر وہاں کہاں

    میرے لیے یہی زمین آئیں گے وہ یہاں کہاں

    سامنا ان کا جب ہوا آنکھوں نے جو کہا کہا

    دل میں ہزار اشتیاق ان میں مگر زباں کہاں

    اف یہ مآل جستجو بعد کمال جستجو

    پہنچے وہی جگہ کہنے لگی یہاں کہاں

    حد نظر کا ہے فریب قرب زمین و آسماں

    ورنہ مری زمین سے ملتا ہے آسماں کہاں

    حسن کا پاسبان عشق عشق کا پاسبان دل

    دل کا ہے پاسبان ہوش ہوش کا پاسباں کہاں

    منزل عاشقی سے کم رکنے کی جا نہیں ارمؔ

    یہ تو ابھی ہے رہگزر بیٹھ گئے یہاں کہاں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اقبال بانو

    اقبال بانو

    ارم لکھنوی

    ارم لکھنوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY