اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گا

وسیم بریلوی

اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گا

وسیم بریلوی

MORE BY وسیم بریلوی

    اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گا

    اس کو چھوٹا کہہ کے میں کیسے بڑا ہو جاؤں گا

    تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیں

    میں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا

    مجھ کو چلنے دو اکیلا ہے ابھی میرا سفر

    راستہ روکا گیا تو قافلہ ہو جاؤں گا

    ساری دنیا کی نظر میں ہے مرا عہد وفا

    اک ترے کہنے سے کیا میں بے وفا ہو جاؤں گا

    RECITATIONS

    وسیم بریلوی

    وسیم بریلوی

    وسیم بریلوی

    اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گا وسیم بریلوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY