اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کا

میاں داد خاں سیاح

اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کا

میاں داد خاں سیاح

MORE BYمیاں داد خاں سیاح

    اپنے ہی دم سے ہے چرچا کفر اور اسلام کا

    گاہ عابد ہوں خدا کا گہہ پجاری رام کا

    لوٹتے ہیں جس کو سن سن کر ہزاروں مرغ دل

    ہو رہا ہے ذکر کس کے گیسوؤں کے دام کا

    چشم مست یار کا ہم چشم لو پیدا ہوا

    دیکھنا اب پوست کھینچا جائے گا بادام کا

    سیر کرتا ہے وہ عالم کی مرا پیک نگاہ

    لاکھ ہے بے دست و پا لیکن ہے پھر سو کام کا

    سر جدا تن سے کیا اک ہاتھ میں جلاد نے

    نقد جاں دیجے کیا اس نے یہ کام انعام کا

    ہیں شہ ملک جنوں صحرا ہے اپنا تخت گاہ

    تن پہ ہر داغ جنوں سکہ ہے اپنے نام کا

    جلد نام اپنا بتا دے جیسے بندہ ہوں ترا

    واسطہ دیتا ہوں میں اے بت خدا کے نام کا

    بت پرستی کی بہت سیاحؔ اب کر یاد حق

    شغل مولا میں رہے بندہ وہی ہے کام کا

    مآخذ :
    • کتاب : Miyadad Khan Saiyyah (Pg. 68)
    • Author : Saiyyed Zahiruddin Madni
    • مطبع : Gujrat Urdu Sahitya Acadami (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY