اپنے حصے میں ہی آنے تھے خسارے سارے

عمران الحق چوہان

اپنے حصے میں ہی آنے تھے خسارے سارے

عمران الحق چوہان

MORE BY عمران الحق چوہان

    اپنے حصے میں ہی آنے تھے خسارے سارے

    دوست ہی دوست تھے بستی میں ہمارے سارے

    زیر لب آہ نمی آنکھ میں چپ چپ تنہا

    ایسے ہی ہوتے ہیں یہ درد کے مارے سارے

    خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتے

    جان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے

    تجھ کو اک لفظ بھی کہنے کی ضرورت کیا ہے

    ہم سمجھتے ہیں مری جان اشارے سارے

    عشق کیا اتنا بڑا جرم ہے؟ جس پر یاور!

    دشمن جان ہوئے جان سے پیارے سارے

    آئے جب تیرے مقابل تو کھلا کچھ بھی نہیں

    گل بدن ماہ جبیں نور کے دھارے سارے

    ہار ہی جیت ہے آئین وفا کی رو سے

    یہ وہ بازی ہے جہاں جیت کے ہارے سارے

    حسن خود قانع ہوا لعل و گہر پر ورنہ

    ہم تو افلاک سے لے آتے ستارے سارے

    کون کافر ہے یہ جب پوچھا گیا واعظ سے

    اوج منبر سے صدا آئی کہ سارے سارے

    ڈوبنا لکھا ہو تقدیر میں عمرانؔ اگر

    آپ بن جاتے ہیں گرداب کنارے سارے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY