اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا

محمد رفیع سودا

اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا

محمد رفیع سودا

MORE BYمحمد رفیع سودا

    اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا

    اس دل کو کیا کہوں کہ دوانے نے کیا کیا

    یاں تک ستانا مج کو کہ رو رو کہے تو ہائے

    یارو نہ تم سنا کہ فلانے نے کیا کیا

    پردہ تو راز عشق سے اے یار اٹھ چکا

    بے سود ہم سے منہ کے چھپانے نے کیا کیا

    آنکھوں کی رہبری نے کہوں کیا کہ دل کے ساتھ

    کوچے کی اس کے راہ بتانے نے کیا کیا

    کام آئی کوہ کن کی مشقت نہ عشق میں

    پتھر سے جوئے شیر کے لانے نے کیا کیا

    ٹک در تک اپنے آ مرے ناصح کا حال دیکھ

    میں تو دوانا تھا پہ سیانے نے کیا کیا

    چاہوں میں کس طرح یہ زمانے کی دوستی

    اوروں سے دوست ہو کے زمانے نے کیا کیا

    کہتا تھا میں گلے کا ترے ہو پڑوں گا ہار

    دیکھا نہ گل کو سر پہ چڑھانے نے کیا کیا

    سوداؔ ہے بے طرح کا نشہ جام عشق میں

    دیکھا کہ اس کو منہ کے لگانے نے کیا کیا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY