اپنے کو تلاش کر رہا ہوں

رئیس امروہوی

اپنے کو تلاش کر رہا ہوں

رئیس امروہوی

MORE BYرئیس امروہوی

    اپنے کو تلاش کر رہا ہوں

    اپنی ہی طلب سے ڈر رہا ہوں

    تم لوگ ہو آندھیوں کی زد میں

    میں قحط ہوا سے مر رہا ہوں

    خود اپنے ہی قلب خونچکاں میں

    خنجر کی طرح اتر رہا ہوں

    اے شہر خیال کے مسافر

    کیا میں ترا ہم سفر رہا ہوں

    دیوار پہ دائرے ہیں کیسے

    یہ کون ہے کس سے ڈر رہا ہوں

    میں شبنم چشم تر سے اے صبح

    کل رات بھی تر بہ تر رہا ہوں

    اک شخص سے تلخ کام ہو کر

    ہر شخص کو پیار کر رہا ہوں

    اے دجلۂ خوں ذرا ٹھہرنا

    اس راہ سے میں گزر رہا ہوں

    فریاد کہ زیر سایۂ گل

    میں زہر‌ خزاں سے مر رہا ہوں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    رئیس امروہوی

    رئیس امروہوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY