اپنے ماضی سے جو ورثے میں ملے ہیں ہم کو (ردیف .. ے)

اقبال عظیم

اپنے ماضی سے جو ورثے میں ملے ہیں ہم کو (ردیف .. ے)

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    اپنے ماضی سے جو ورثے میں ملے ہیں ہم کو

    ان اصولوں کی تجارت نہیں ہوگی ہم سے

    عہد حاضر کی ہر اک بات ہمیں دل سے قبول

    صرف توہین روایت نہیں ہوگی ہم سے

    جھوٹ بھی بولیں صداقت کے پیمبر بھی بنیں

    ہم کو بخشو یہ سیاست نہیں ہوگی ہم سے

    زخم بھی کھائیں رقیبوں کو دعائیں بھی دیں

    اتنی مخدوش شرافت نہیں ہوگی ہم سے

    سرخ پتھر کے صنم ہوں کہ وہ پتھر کے صنم

    بت کدوں میں تو عبادت نہیں ہوگی ہم سے

    ہے اطاعت کے لیے اپنا فقط ایک خدا

    نہ خداؤں کی اطاعت نہیں ہوگی ہم سے

    غیر مشروط رفاقت کے طرف دار ہیں ہم

    شرط کے ساتھ رفاقت نہیں ہوگی ہم سے

    فکر و اظہار میں ہم حکم کے پابند نہیں

    شاعری حسب ہدایات نہیں ہوگی ہم سے

    صرف باتیں ہی اگر آپ گوارہ کر لیں

    آپ کو کوئی شکایت نہیں ہوگی ہم سے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY