اپنے ناخن اپنے چہرے پر خراشیں دے گئے

علی اکبر عباس

اپنے ناخن اپنے چہرے پر خراشیں دے گئے

علی اکبر عباس

MORE BYعلی اکبر عباس

    اپنے ناخن اپنے چہرے پر خراشیں دے گئے

    گھر کے دروازے پہ کچھ بھوکے صدائیں دے گئے

    جاگتے لوگوں نے شب ماروں کی جب چلنے نہ دی

    دن چڑھے وہ روشنی کو بد دعائیں دے گئے

    خود ہی اپنے ہاتھ کاٹے اور آنکھیں پھوڑ لیں

    دیوتاؤں کو پجاری کیا سزائیں دے گئے

    ایک اپنی ذات کے نقطے کو مرکز مان کر

    حوصلوں کے زاویے بے حد خلائیں دے گئے

    تیز طوفانوں نے ساحل روند ڈالے تھے مگر

    جب وہ ٹکرائے پہاڑوں سے گھٹائیں دے گئے

    مآخذ:

    • کتاب : Ber Aab e Neel (Pg. 35)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY