اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے

جلیل مانک پوری

اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے

جلیل مانک پوری

MORE BY جلیل مانک پوری

    اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے

    یہ قفس یہ آشیانا اور ہے

    موت کا آنا بھی دیکھا بارہا

    پر کسی پر دل کا آنا اور ہے

    ناز اٹھانے کو اٹھاتے ہیں سبھی

    اپنے دل کا ناز اٹھانا اور ہے

    درد دل سن کر تمہیں نیند آ چکی

    بندہ پرور یہ فسانا اور ہے

    رات بھر میں شمع محفل جل بجھی

    عاشقوں کا دل جلانا اور ہے

    ہم کہاں پھر باغباں گلشن کہاں

    ایک دو دن آب و دانا اور ہے

    بھولی بھولی ان کی باتیں ہو چکیں

    اب خدا رکھے زمانا اور ہے

    چھوڑ دوں کیوں کر در پیر مغاں

    کوئی ایسا آستانا اور ہے

    یار صادق ڈھونڈتے ہو تم جلیلؔ

    مشفق من یہ زمانا اور ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY