اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل

باقی صدیقی

اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل

باقی صدیقی

MORE BY باقی صدیقی

    اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل

    ہر سائے کے ساتھ نہ ڈھل

    لفظوں کے پھولوں پہ نہ جا

    دیکھ سروں پر چلتے ہل

    دنیا برف کا تودا ہے

    جتنا جل سکتا ہے جل

    غم کی نہیں آواز کوئی

    کاغذ کالے کرتا چل

    بن کے لکیریں ابھرے ہیں

    ماتھے پر راہوں کے بل

    میں نے تیرا ساتھ دیا

    میرے منہ پر کالک مل

    آس کے پھول کھلے باقیؔ

    دل سے گزرا پھر بادل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY