اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائے

بیدم شاہ وارثی

اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائے

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائے

    آدمی کثرت انوار سے حیراں ہو جائے

    تم جو چاہو تو مرے درد کا درماں ہو جائے

    ورنہ مشکل ہے کہ مشکل مری آساں ہو جائے

    او نمک پاش تجھے اپنی ملاحت کی قسم

    بات تو جب ہے کہ ہر زخم نمک داں ہو جائے

    دینے والے تجھے دینا ہے تو اتنا دے دے

    کہ مجھے شکوۂ کوتاہئ داماں ہو جائے

    اس سیہ بخت کی راتیں بھی کوئی راتیں ہیں

    خواب راحت بھی جسے خواب پریشاں ہو جائے

    سینۂ شبلی و منصور تو پھونکا تو نے

    اس طرف بھی کرم اے جنبش داماں ہو جائے

    آخری سانس بنے زمزمۂ ہو اپنا

    ساز مضراب فنا تار رگ جاں ہو جائے

    تو جو اسرار حقیقت کہیں ظاہر کر دے

    ابھی بیدمؔ رسن و دار کا ساماں ہو جائے

    مأخذ :
    • کتاب : Noquush (Pg. B-334 E-340)
    • مطبع : Nuqoosh Press Lahore (May June 1954)
    • اشاعت : May June 1954

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے