اپنی ہی لاش پہ ہیں اشک بہائے ہوئے لوگ

محمد صادق جمیل

اپنی ہی لاش پہ ہیں اشک بہائے ہوئے لوگ

محمد صادق جمیل

MORE BYمحمد صادق جمیل

    اپنی ہی لاش پہ ہیں اشک بہائے ہوئے لوگ

    ہم ہیں یک طرفہ محبت کے ستائے ہوئے لوگ

    میں تھا نادان نہ بس پایا جہاں میں لیکن

    کیوں پریشان ہیں یہ تیرے بسائے ہوئے لوگ

    توڑ دیتی ہے ہمیں سانس کی بے ترتیبی

    خواہ مخواہ ہاتھوں میں پتھر ہیں اٹھائے ہوئے لوگ

    خود پہ ہنستا ہوں بہت جب میں انہیں دیکھتا ہوں

    بن کے بیٹھے ہیں خدا میرے بنائے ہوئے لوگ

    گر بھی جائے جو یہ دیوار تو سایہ دے گی

    اس یقیں پر ہیں یہاں ڈیرا لگائے ہوئے لوگ

    حسن کی حد سے کہیں آگے ہے تیرا جلوہ

    تیری دہلیز پہ یوں ہی نہیں آئے ہوئے لوگ

    ایسے شاگرد کہ استاد نظر آتے ہیں

    اے زمانے ترے ہاتھوں کے پڑھائے ہوئے لوگ

    نشۂ تاجوری میں ہیں جو مدہوش جمیلؔ

    ان سے بہتر ہیں تری بزم میں آئے ہوئے لوگ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY