اپنی خاطر ستم ایجاد بھی ہم کرتے ہیں

مہتاب حیدر نقوی

اپنی خاطر ستم ایجاد بھی ہم کرتے ہیں

مہتاب حیدر نقوی

MORE BYمہتاب حیدر نقوی

    اپنی خاطر ستم ایجاد بھی ہم کرتے ہیں

    اور پھر نالہ و فریاد بھی ہم کرتے ہیں

    ایک دنیا مری آباد ہے جن سے وہی خواب

    کبھی پسپا کبھی برباد بھی ہم کرتے ہیں

    خانۂ جسم میں ہنگامہ مچا رکھا ہے

    لے مری جاں تجھے آزاد بھی ہم کرتے ہیں

    اپنے احباب پہ کرتے ہیں دل و جان نثار

    اور اکثر انہیں نا شاد بھی ہم کرتے ہیں

    رنج الفت کے سوا اے دل نادان بتا

    تھا کوئی رنج جسے یاد بھی ہم کرتے ہیں

    اور بھی لوگ ہیں اس کار زیاں میں ہمراہ

    سو ان اشعار کو ارشاد بھی ہم کرتے ہیں

    RECITATIONS

    مہتاب حیدر نقوی

    مہتاب حیدر نقوی

    مہتاب حیدر نقوی

    مہتاب حیدر نقوی

    مہتاب حیدر نقوی

    اپنی خاطر ستم ایجاد بھی ہم کرتے ہیں مہتاب حیدر نقوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY