اپنی ساری کاوشوں کو رائیگاں میں نے کیا

آزاد گلاٹی

اپنی ساری کاوشوں کو رائیگاں میں نے کیا

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    اپنی ساری کاوشوں کو رائیگاں میں نے کیا

    میرے اندر جو نہ تھا اس کو بیاں میں نے کیا

    سر پہ جب سایا رہا کوئی نہ دوران سفر

    اس کی یادوں کو پھر اپنا سائباں میں نے کیا

    اب یہاں پر سانس تک لینا مجھے دشوار ہے

    کس تمنا پر زمیں کو آسماں میں نے کیا

    لمحہ لمحہ وقت کے ہاتھوں کیا خود کو سپرد

    سب گنوا بیٹھا تو پھر فکر زیاں میں نے کیا

    جب نہ اس کے اور میرے درمیاں کچھ بھی رہا

    خود کو ہی پھر اس کے اپنے درمیاں میں نے کیا

    دونوں چپ تھے زور سے چلتی ہوا کے سامنے

    پھر اچانک خشک پتوں کو زباں میں نے کیا

    مآخذ
    • کتاب : Aab-e-Sharab (Pg. 54)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY