اپنی وہ بے ثبات ہستی ہے

جوشش عظیم آبادی

اپنی وہ بے ثبات ہستی ہے

جوشش عظیم آبادی

MORE BY جوشش عظیم آبادی

    اپنی وہ بے ثبات ہستی ہے

    کہ سدا نیستی ہی ہنستی ہے

    نام سنتے ہو جس کا ویرانہ

    وہی سودائیوں کی بستی ہے

    شمع سے ہاتھ کھینچ اے گل گیر

    اتنی بھی کیا دراز دستی ہے

    چشم وحدت سے گر کوئی دیکھے

    بت پرستی بھی حق پرستی ہے

    اپنے ابر مژہ سے اے ؔجوشش

    جائے آب آگ ہی برستی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY