اپنوں کا ستایا ہوا اپنوں کا ڈسا ہوں

مسعود حساس

اپنوں کا ستایا ہوا اپنوں کا ڈسا ہوں

مسعود حساس

MORE BYمسعود حساس

    اپنوں کا ستایا ہوا اپنوں کا ڈسا ہوں

    جی جان لٹا آیا مگر پھر بھی برا ہوں

    اس جسم کو جھونکا ہے مشقت کی اگن میں

    ہر لمحہ مرا مر کے جیا جی کے مرا ہوں

    ہر روز قلم سر کو کیا ہاتھ سے اپنے

    ہر رات کو جذبات کی سولی پہ چڑھا ہوں

    اس ملک میں سونے کے نوالے نہیں بھائی

    بس ریت ہے اور ریت کو میں پھانک رہا ہوں

    جس گھر کو بڑے تاؤ سے تم بانٹ رہے ہو

    اس گھر کے بنانے کو شب و روز جلا ہوں

    تم سوچتے ہو عیش کا بستر ہے میسر

    میں دھوپ کے صحرا میں تھکن اوڑھ رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY