عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقی

ساحر لدھیانوی

عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقی

ساحر لدھیانوی

MORE BYساحر لدھیانوی

    عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقی

    ازل سے ذہن انساں بستۂ اوہام ہے ساقی

    حقیقت آشنائی اصل میں گم کردہ راہی ہے

    عروس آگہی پروردۂ ابہام ہے ساقی

    مبارک ہو ضعیفی کو خرد کی فلسفہ رانی

    جوانی بے نیاز عبرت انجام ہے ساقی

    ہوس ہوگی اسیر حلقۂ نیک و بد عالم

    محبت ماورائے فکر ننگ و نام ہے ساقی

    ابھی تک راستے کے پیچ و خم سے دل دھڑکتا ہے

    مرا ذوق طلب شاید ابھی تک خام ہے ساقی

    وہاں بھیجا گیا ہوں چاک کرنے پردۂ شب کو

    جہاں ہر صبح کے دامن پہ عکس شام ہے ساقی

    مرے ساغر میں مے ہے اور ترے ہاتھوں میں بربط ہے

    وطن کی سر زمیں میں بھوک سے کہرام ہے ساقی

    زمانہ برسر پیکار ہے پر ہول شعلوں سے

    ترے لب پر ابھی تک نغمہ خیام ہے ساقی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقی نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY