عقل گئی ہے سب کی کھوئی کیا یہ خلق دوانی ہے

مصحفی غلام ہمدانی

عقل گئی ہے سب کی کھوئی کیا یہ خلق دوانی ہے

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    عقل گئی ہے سب کی کھوئی کیا یہ خلق دوانی ہے

    آپ حلال میں ہوتا ہوں ان لوگوں کو قربانی ہے

    نطق زباں گر ہوتا مجھ کو پوچھتا میں تقصیر مری

    ہاں یہ مگر دو آنکھیں ہیں سو ان سے اشک فشانی ہے

    گھاس چری ہے جنگل کی میں جون میں دنبے بکرے کی

    ان کا کچھ ڈھالا کہ بگاڑا جس پر خنجر رانی ہے

    تین جگہ سے میرے گلے کو مثل شتر یہ کاٹتے ہیں

    دین محمدی ہے جو خلیلی اس کی یہ طغیانی ہے

    جنس نے جنس کو قتل کیا کب دیکھیو بد ذاتی تو ذرا

    یعنی جو ہو مرد مسلماں اس کی یہ ہی نشانی ہے

    کافر دل جلاد نہیں ہم زخم کو ایک سمجھتے ہیں

    ہم کو جو اس کام کا سمجھے اس کی یہ نادانی ہے

    راہ رضا پر اپنا گلا کٹوائے جو نیچے خنجر کے

    مصحفیؔ اس کو ہم یہ کہیں گے وہ بھی حسین ثانی ہے

    مآخذ
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(divan-e-soom) (Pg. 268)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY