ارماں کو چھپانے سے مصیبت میں ہے جاں اور

آنند نرائن ملا

ارماں کو چھپانے سے مصیبت میں ہے جاں اور

آنند نرائن ملا

MORE BYآنند نرائن ملا

    ارماں کو چھپانے سے مصیبت میں ہے جاں اور

    شعلہ کو دباتے ہیں تو اٹھتا ہے دھواں اور

    انکار کیے جاؤ اسی طور سے ہاں اور

    ہونٹوں پہ ہے کچھ اور نگاہوں سے عیاں اور

    خود تو نے بڑھائی ہے یہ تفریق جہاں اور

    تو ایک مگر روپ یہاں اور وہاں اور

    دل میں کوئی غنچہ کبھی کھلتے نہیں دیکھا

    اس باغ میں کیا آ کے بنا لے گی خزاں اور

    اتنا بھی مرے عہد وفا پر نہ کرو شک

    ہاں ہاں میں سمجھتا ہوں کہ ہے رسم جہاں اور

    ہر لب پہ ترا نام ہے اک میں ہوں کہ چپ ہوں

    دنیا کی زباں اور ہے عاشق کی زباں اور

    اب کوئی صدا میری صدا پر نہیں دیتا

    آواز طرب اور تھی آواز فغاں اور

    کچھ دور پہ ملتی ہیں حدیں ارض و سما کی

    صحرائے طلب میں نہیں منزل کا نشاں اور

    اک آہ اور اک اشک پہ ہے قصۂ دل ختم

    رکھتی نہیں الفاظ محبت کی زباں اور

    وہ صبح کے تارے کی جھپکنے سی لگی آنکھ

    کچھ دیر ذرا دیدۂ انجم نگراں اور

    ملاؔ وہی تم اور وہی کوئے حسیناں

    جیسے کبھی دنیا میں نہ تھا کوئی جواں اور

    مآخذ
    • کتاب : Kulliyat-e-Anand Narayan Mulla (Pg. 202)
    • Author : Anand Narayan Mull a
    • مطبع : Qaumi Council Baraye-farogh Urdu (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY