اشک گرنے کی صدا آئی ہے

ذوالفقار عادل

اشک گرنے کی صدا آئی ہے

ذوالفقار عادل

MORE BYذوالفقار عادل

    اشک گرنے کی صدا آئی ہے

    بس یہی راحت گویائی ہے

    سطح پر تیر رہے ہیں دن رات

    نیند اک خواب کی گہرائی ہے

    ان پرندوں کا پلٹ کر آنا

    اک تخیل کی پذیرائی ہے

    عکس بھی غیر ہے آئینہ بھی

    یہ تحیر ہے کہ تنہائی ہے

    ان دریچوں سے کہ جو تھے ہی نہیں

    اک اداسی ہے کہ در آئی ہے

    دل نمودار ہوا ہے دل میں

    آنکھ اک آنکھ سے بھر آئی ہے

    اس کی آنکھوں کی خموشی عادلؔ

    ڈوبتے وقت کی گویائی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY