اشک پر گداز‌ دل حاشیہ چڑھاتا ہے

عروج زیدی بدایونی

اشک پر گداز‌ دل حاشیہ چڑھاتا ہے

عروج زیدی بدایونی

MORE BYعروج زیدی بدایونی

    اشک پر گداز‌ دل حاشیہ چڑھاتا ہے

    اک ذرا سے قصہ کو داستاں بناتا ہے

    ہاں وہ کافر نعمت کور ذوق ہے یارو

    جو غم محبت کو حادثہ بتاتا ہے

    جیتے جی کا رشتہ ہے روح و جسم کا رشتہ

    دھوپ کے تعاقب میں سایہ مات کھاتا ہے

    جب زبان بندی ہو نظریں کام کرتی ہیں

    اک پیام آتا ہے اک پیام جاتا ہے

    پتھروں کے سینے میں آئنہ بھی ہیرے بھی

    ظلمتوں کا خالق ہی مہر و مہ اگاتا ہے

    کیوں جوار منزل میں سست گام ہیں راہی

    قرب کا یقیں شاید فاصلہ بڑھاتا ہے

    اے عروجؔ یہ دنیا قدر درد کیا جانے

    کیوں زمانہ سازوں کو حال دل سناتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY