اسیر بحر و بر کوئی نہیں ہے

طاہر عدیم

اسیر بحر و بر کوئی نہیں ہے

طاہر عدیم

MORE BYطاہر عدیم

    اسیر بحر و بر کوئی نہیں ہے

    جہاں میں مختصر کوئی نہیں ہے

    ہے دھڑکا سا مرے سینے میں لیکن

    در امید پر کوئی نہیں ہے

    مرا سایا سمٹ آیا ہے مجھ میں

    مرا اب ہم سفر کوئی نہیں ہے

    حوادث بھی وہیں ہم بھی وہیں ہیں

    مگر اب چشم تر کوئی نہیں ہے

    نظر ہی بام پر میری نہیں یا

    نظر کے بام پر کوئی نہیں ہے

    بجز میرے یہاں میری وفا کا

    حوالہ معتبر کوئی نہیں ہے

    سمجھ کر سوچ کر دل میں اترنا

    یہاں باہر کو در کوئی نہیں ہے

    خرد کے لاکھ قاصد ہیں تو ہوں گے

    جنوں کا نامہ بر کوئی نہیں ہے

    مجھے اپنانے والے لوگ طاہرؔ

    بہت سے ہیں مگر کوئی نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے