اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے

مضطر خیرآبادی

اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے

    کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

    کسی کے درد محبت نے عمر بھر کے لیے

    خدا سے مانگ لیا انتخاب کر کے مجھے

    یہ ان کے حسن کو ہے صورت آفریں سے گلہ

    غضب میں ڈال دیا لا جواب کر کے مجھے

    وہ پاس آنے نہ پائے کہ آئی موت کی نیند

    نصیب سو گئے مصروف خواب کر کے مجھے

    مرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمت

    کریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے

    میں ان کے پردۂ بے جا سے مر گیا مضطرؔ

    انھوں نے مار ہی ڈالا حجاب کر کے مجھے

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 86)
    • Author : Javed Akhtar
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY