اسیروں میں بھی ہو جائیں جو کچھ آشفتہ سر پیدا

اقبال سہیل

اسیروں میں بھی ہو جائیں جو کچھ آشفتہ سر پیدا

اقبال سہیل

MORE BYاقبال سہیل

    اسیروں میں بھی ہو جائیں جو کچھ آشفتہ سر پیدا

    ابھی دیوار زنداں میں ہوا جاتا ہے در پیدا

    کیے ہیں چاک دل سے بوئے گل نے بال و پر پیدا

    ہوس ہے زندگانی کی تو ذوق مرگ کر پیدا

    یہ مشت خاک اگر کر لے پر و بال نظر پیدا

    تو اوج لامکاں تک ہوں ہزاروں رہ گزر پیدا

    جمال دوست پنہاں پردۂ شمس و قمر پیدا

    یہی پردے تو کرتے ہیں تقاضائے نظر پیدا

    محبت تیرے صدقے تو نے کر دی وہ نظر پیدا

    جدھر آنکھیں اٹھیں ہوتا ہے حسن جلوہ گر پیدا

    شب غم اب منائے خیر اپنے جیب و دامن کی

    رہے دست جنوں باقی تو کر لیں گے سحر پیدا

    مذاق سر بلندی ہو تو پھر دیر و حرم کیسے

    جبیں سائی کی فطرت نے کیے ہیں سنگ در پیدا

    نثار اس لن ترانی کے یہ کیا کم ہے شرف اس کا

    دل خوددار نے کر لی نگاہ خود نگر پیدا

    جوانو یہ صدائیں آ رہی ہیں آبشاروں سے

    چٹانیں چور ہو جائیں جو ہو عزم سفر پیدا

    وہ شبنم کا سکوں ہو یا کہ پروانے کی بیتابی

    اگر اڑنے کی دھن ہوگی تو ہوں گے بال و پر پیدا

    سہیلؔ اب پوچھنا ہے انقلاب آسمانی سے

    ہماری شام غم کی بھی کبھی ہوگی سحر پیدا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اسیروں میں بھی ہو جائیں جو کچھ آشفتہ سر پیدا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY