اول تو یہ دھج اور یہ رفتار غضب ہے

مصحفی غلام ہمدانی

اول تو یہ دھج اور یہ رفتار غضب ہے

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    اول تو یہ دھج اور یہ رفتار غضب ہے

    تس پہ ترے پازیب کی جھنکار غضب ہے

    کیوں کر نہ تجھے دوڑ کے چھاتی سے لگا لوں

    پھولوں کا گلے میں ترے یہ ہار غضب ہے

    جب دیکھوں ہوں کرتی ہے مرے دل کو پریشاں

    آشفتگیٔ طرۂ طرار غضب ہے

    اے کاش یہ آنکھیں مجھے یہ دن نہ دکھاتیں

    اس شوق پہ محرومیٔ دیدار غضب ہے

    خورشید کا منہ ہے کہ طرف ہو سکے اس سے

    یعنی وہ بر افروختہ رخسار غضب ہے

    میں اور کسی بات کا شاکی نہیں تجھ سے

    یہ وقت کے اوپر ترا انکار غضب ہے

    اب تک حرم وصل سے محرم نہ ہوئے ہم

    کعبے میں حجاب در و دیوار غضب ہے

    گر ایک غضب ہو تو کوئی اس کو اٹھاوے

    رفتار غضب ہے تری گفتار غضب ہے

    فرہاد بچا عشق سے نے قیس نہ وامق

    جی لے ہی کے جاتا ہے یہ آزار غضب ہے

    اے مصحفیؔ اس شوق سے ٹک بچ کے تو چلنا

    سنتا ہے میاں وہ بت خوں خار غضب ہے

    مآخذ
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(awwa) (Pg. 387)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY