عذاب ہم سفری سے گریز تھا مجھ کو

انور صدیقی

عذاب ہم سفری سے گریز تھا مجھ کو

انور صدیقی

MORE BYانور صدیقی

    عذاب ہم سفری سے گریز تھا مجھ کو

    پکارتا رہا اک ایک قافلا مجھ کو

    میں اپنی لوٹتی آواز کے حصار میں تھا

    وہ لمحہ جب تری آواز نے چھوا مجھ کو

    یہ کس نے چھین لیے مجھ سے خوشبوؤں کے مکاں

    یہ کون دشت کی دیوار کر گیا مجھ کو

    اجالتی نہیں اب مجھ کو کوئی تاریکی

    سنوارتا نہیں اب کوئی حادثہ مجھ کو

    بجھا بجھا سر محراب دور بیٹھا تھا

    کوئی چراغ سمجھ کر جلا گیا مجھ کو

    میں کیسے اپنے بکھرنے کا تجھ کو دوں الزام

    زمانا خود ہی بکھرتا ہوا ملا مجھ کو

    مأخذ :
    • کتاب : Aazadi ke baad dehli men urdu gazal (Pg. 64)
    • Author : Professor Unwan Chishti
    • مطبع : Asila Offset Printers, Kalan Mahal, Dariyaganj, New Delhi-6 (1989)
    • اشاعت : 1989

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے