عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا

افتخار عارف

عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا

افتخار عارف

MORE BY افتخار عارف

    عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا

    کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا

    اس ایک خواب کی حسرت میں جل بجھیں آنکھیں

    وہ ایک خواب کہ اب تک نظر نہیں آیا

    کریں تو کس سے کریں نا رسائیوں کا گلہ

    سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا

    دلوں کی بات بدن کی زباں سے کہہ دیتے

    یہ چاہتے تھے مگر دل ادھر نہیں آیا

    عجیب ہی تھا مرے دور گمرہی کا رفیق

    بچھڑ گیا تو کبھی لوٹ کر نہیں آیا

    حریم لفظ و معانی سے نسبتیں بھی رہیں

    مگر سلیقۂ عرض ہنر نہیں آیا

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    افتخار عارف

    عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا افتخار عارف

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY