ازل کی یاد میں میں گرم آہ سرد ہوا

راغب بدایونی

ازل کی یاد میں میں گرم آہ سرد ہوا

راغب بدایونی

MORE BYراغب بدایونی

    ازل کی یاد میں میں گرم آہ سرد ہوا

    لگی تھی چوٹ کبھی اور آج درد ہوا

    گزر گیا یہ نگاہوں سے تیرا مرکب حسن

    تمام عالم دل اک قدم میں گرد ہوا

    غلط کہ قابل‌ دار و رسن ہوں اہل ہوس

    بندھائی عشق نے ہمت جسے وہ مرد ہوا

    پرے وہ عقل سے ہیں اس یقیں نے روک لیا

    کبھی جو وہم کے پیچھے میں رہ نورد ہوا

    تمام تجربۂ گرم و سرد عشق کہاں

    کچھ اشک گرم ہوا دل کچھ آہ سرد ہوا

    نقاب ان کی اٹھی تھی کہ ہم ہوئے بے ہوش

    نگاہ ان سے لڑی تھی کہ دل میں درد ہوا

    کرم سے اپنے مٹا دو کہ بے قرار ہے عشق

    مرا وجود کہ دنیا کے دل کا درد ہوا

    شہود بے جہت و کیف منسلک راغبؔ

    جنوں اسے جو کسی سمت رہ نورد ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY