بہ سطح آب کوئی عکس ناتواں نہ پڑا

جعفر شیرازی

بہ سطح آب کوئی عکس ناتواں نہ پڑا

جعفر شیرازی

MORE BYجعفر شیرازی

    بہ سطح آب کوئی عکس ناتواں نہ پڑا

    ہوا گزر بھی گئی اور کہیں نشاں نہ پڑا

    بڑے سکون سے دیکھا ہے جلتے لمحوں کو

    ہماری آنکھ میں ورنہ دھواں کہاں نہ پڑا

    کٹھن بھی ایسا نہ تھا میری تیری صلح کا کام

    کوئی بھی شخص مرے تیرے درمیاں نہ پڑا

    ہوئے ہیں خاک خموشی کے دشت میں کھو کر

    ہمارے کان میں ہی شور کارواں نہ پڑا

    بلا کی دھوپ ہے جعفرؔ کسی کو ہوش نہیں

    پڑا ہے ابر کا سایا کہاں کہاں نہ پڑا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY