باب قفس کھلنے کو کھلا ہے

آسی رام نگری

باب قفس کھلنے کو کھلا ہے

آسی رام نگری

MORE BYآسی رام نگری

    باب قفس کھلنے کو کھلا ہے

    باہر بھی تو دام بچھا ہے

    اس کے سوا سب بھول گیا ہوں

    جب سے وہ مرے دل میں بسا ہے

    بڑھنے لگی ہے دل کی دھڑکن

    شاید اس نے یاد کیا ہے

    قافلے والو خیر مناؤ

    رہزن ہی جب راہنما ہے

    ساحل ساحل بھی کیا چلنا

    موجوں پہ سفینہ ڈال دیا ہے

    اپنی مرضی اپنی رضا کیا

    سب سے بڑھ کر اس کی رضا ہے

    آج کے انساں کی مت پوچھو

    جیسے خدا سے بھی یہ بڑا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY