بعد مردن کی بھی تدبیر کیے جاتا ہوں

مصحفی غلام ہمدانی

بعد مردن کی بھی تدبیر کیے جاتا ہوں

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    بعد مردن کی بھی تدبیر کیے جاتا ہوں

    اپنی قبر آپ ہی تعمیر کیے جاتا ہوں

    چین مطلق نہیں پڑتا شب ہجراں میں مجھے

    صبح تک نالۂ شب گیر کیے جاتا ہوں

    عفو پر عفو کی ریزش ہے ادھر سے ہر دم

    اور میں تقصیر پہ تقصیر کیے جاتا ہوں

    اس کے کوچے میں جو دیکھے گا کرے گا مجھے یاد

    اپنی صورت کی میں تصویر کیے جاتا ہوں

    اٹھ کے تا کوچۂ لیلیٰ سے نہ جاوے یہ کہیں

    پانو میں قیس کے زنجیر کیے جاتا ہوں

    کوئی لے جائے اسے یا کہ نہ لے جائے پہ میں

    نامۂ شوق کی تحریر کیے جاتا ہوں

    اس کا کیا جرم مرے ہوش گئے ہیں کیسے

    جو علم غیر پہ شمشیر کیے جاتا ہوں

    پیش جاتی نہیں یوں بھی مری اس سے ہر چند

    شر و مکر و فن و تزویر کیے جاتا ہوں

    نقش حب چال سے نکل ہے مری اس خاطر

    میں پری زادوں کی تسخیر کیے جاتا ہوں

    مصحفیؔ یار تو سنتا نہیں اور وحشی سا

    حال کی اپنے میں تقریر کیے جاتا ہوں

    مآخذ
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(hashtum) (Pg. 49)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY