بادل امڈے ہیں دھواں دھار گھٹا چھائی ہے

دتا تریہ کیفی

بادل امڈے ہیں دھواں دھار گھٹا چھائی ہے

دتا تریہ کیفی

MORE BYدتا تریہ کیفی

    بادل امڈے ہیں دھواں دھار گھٹا چھائی ہے

    دھوئیں توبہ کے اڑانے کو بہار آئی ہے

    تا کہ انگور ہرے ہوں مرے زخم دل کے

    دھانی انگیا مرے دل دار نے رنگوائی ہے

    تیرہ بختی سے ہوئی مجھ کو یہ خفت حاصل

    دل وحشت میں سویدا کی جگہ پائی ہے

    یہ چلن ہیں تو تمہیں حشر سے دیں گے تشبیہ

    لوگ سفاک کہیں گے بڑی رسوائی ہے

    موت کو زیست سمجھتا ہوں میں بیتابی سے

    تری فرقت نے یہ حالت مری پہنچائی ہے

    صبر ہجراں میں کرے کیفیؔٔ محزوں کب تک

    آخر اے دوست کوئی حد شکیبائی ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY