بارش سنگ سے گل چاک ہوا چاہتے ہیں

سنجے مصرا شوق

بارش سنگ سے گل چاک ہوا چاہتے ہیں

سنجے مصرا شوق

MORE BYسنجے مصرا شوق

    بارش سنگ سے گل چاک ہوا چاہتے ہیں

    سب اسی خاک کی پوشاک ہوا چاہتے ہیں

    یوں ترے شہر میں بدلی ہے ہوائے خوش رنگ

    جتنے معصوم ہیں چالاک ہوا چاہتے ہیں

    فکر کا آب رواں اب نہیں رکنے والا

    ہم اسی بحر کے پیراک ہوا چاہتے ہیں

    سب کو رہتی ہے یہاں شہر اماں کی خواہش

    اتنے حالات خطرناک ہوا چاہتے ہیں

    روشنی بیچنے والے یہ اجالوں کے سفیر

    بستیاں پھونک کے غم ناک ہوا چاہتے ہیں

    میری صحبت کا نتیجہ ہے کہ سارے مظلوم

    ایک ہی وقت میں بے باک ہوا چاہتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY