بات بچوں کی تھی لڑنے کو سیانے نکلے

آتش اندوری

بات بچوں کی تھی لڑنے کو سیانے نکلے

آتش اندوری

MORE BYآتش اندوری

    بات بچوں کی تھی لڑنے کو سیانے نکلے

    پھر عجب کیا ہے کہ بچے بھی لڑاکے نکلے

    دھیان ماں رکھتی تھی میرا وہ زمانے نکلے

    ہیں یوں اب روز سویرے سے کمانے نکلے

    آم کے باغ سے جب سے ہیں پرندے غائب

    بعد اس کے کہاں پھر آم رسیلے نکلے

    پوٹلی جس کے لئے لڑتی رہیں اولادیں

    ماں کی اس پوٹلی میں صرف جھروکے نکلے

    یہ تو کل یگ ہے کھرا اس میں نہیں ہیں کوئی

    مجھ کو شکوہ نہیں سکے مرے کھوٹے نکلے

    پھر غریبوں کی شکایت کا خدا حافظ ہیں

    جب وزیروں کے امیروں ہی سے رشتے نکلے

    گرد جب صاف ہوئی سب نے یہ منظر دیکھا

    جو نظر آتے تھے اونچے وہی بونے نکلے

    ابتدا پھر سے ہے ایک اور سفر کی آتشؔ

    بعد مرنے کے بھلے پیروں سے جوتے نکلے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY