بات ایک جیسی ہے ہجو یا قصیدہ لکھ

آفتاب اقبال شمیم

بات ایک جیسی ہے ہجو یا قصیدہ لکھ

آفتاب اقبال شمیم

MORE BYآفتاب اقبال شمیم

    بات ایک جیسی ہے ہجو یا قصیدہ لکھ

    بے نیازیاں اس کی ہو کے آب دیدہ لکھ

    جمع کر یہ آوازیں میری خود کلامی کی

    اور ان کے املے سے درد کا جریدہ لکھ

    ذہن کی ہدایت ہے کاتب زمانہ کو

    عقل کی دلیلوں سے آج کا عقیدہ لکھ

    رنگ و روشنائی کی حد اوج سے اوپر

    ہو سکے تو اندازاً قامت کشیدہ لکھ

    دیکھ ان خلاؤں میں نقطہ ہائے نور اس کے

    تو بھی ایک خالق ہے شعر چیدہ چیدہ لکھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY