بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی

جلیل مانک پوری

بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی

جلیل مانک پوری

MORE BY جلیل مانک پوری

    بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی

    کر کے توبہ توڑ ڈالی جائے گی

    وہ سنورتے ہیں مجھے اس کی ہے فکر

    آرزو کس کی نکالی جائے گی

    دل لیا پہلی نظر میں آپ نے

    اب ادا کوئی نہ خالی جائے گی

    آتے آتے آئے گا ان کو خیال

    جاتے جاتے بے خیالی جائے گی

    کیا کہوں دل توڑتے ہیں کس لیے

    آرزو شاید نکالی جائے گی

    گرمئ نظارہ بازی کا ہے شوق

    باغ سے نرگس نکالی جائے گی

    دیکھتے ہیں غور سے میری شبیہ

    شاید اس میں جان ڈالی جائے گی

    اے تمنا تجھ کو رو لوں شام وصل

    آج تو دل سے نکالی جائے گی

    فصل گل آئی جنوں اچھلا جلیلؔ

    اب طبیعت کچھ سنبھالی جائے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY