بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئے

مجید امجد

بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئے

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئے

    یہ ایک صبح تو ہے سیر بوستاں کے لئے

    چلیں کہیں تو سیہ دل زمانوں میں ہوں گی

    فراغتیں بھی اس اک صدق رائیگاں کے لئے

    لکھے ہیں لوحوں پر جو مردہ لفظ ان میں جئیں

    اس اپنی زیست کے اسرار کے بیاں کے لئے

    پکارتی رہی بنسی بھٹک گئے ریوڑ

    نئے گیاہ نئے چشمۂ‌ رواں کے لئے

    سحر کو نکلا ہوں مینہ میں اکیلا کس کے لئے

    درخت ابر ہوا بوئے ہمرہاں کے لئے

    سواد نور سے دیکھیں تو تب سراغ ملے

    کہ کس مقام کی ظلمت ہے کس جہاں کے لئے

    تو روشنی کے ملیدے میں رزق کی خاطر

    میں روشنائی کے گودے میں آب و ناں کے لئے

    ترس رہے ہیں سدا خشت خشت لمحوں کے دیس

    جو میرے دل میں ہے اس شہر بے مکاں کے لئے

    یہ نین جلتی لوؤں جیتی نیکیوں والے

    گھنے بہشتوں کا سایہ ہیں ارض جاں کے لئے

    ضمیر خاک میں خفتہ ہے میرا دل امجدؔ

    کہ نیند مجھ کو ملی خواب رفتگاں کے لئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY