بدل بدل کے تری بے رخی نے دیکھا ہے

نثار ترابی

بدل بدل کے تری بے رخی نے دیکھا ہے

نثار ترابی

MORE BYنثار ترابی

    بدل بدل کے تری بے رخی نے دیکھا ہے

    یہ حادثہ بھی مری بے بسی نے دیکھا ہے

    مجھے خبر ہے کہ ظلمت ٹھہر نہیں سکتی

    مجھے پتا ہے اسے روشنی نے دیکھا ہے

    مری غزل ہے سلگتے ہوؤں نے دیکھا ہے

    کہ میرا عکس مری شاعری نے دیکھا ہے

    میں جھوم جھوم گیا لے کے آسرا اس کا

    کہ میری سمت اچانک خوشی نے دیکھا ہے

    بچھڑ کے جیسے دوبارہ بھی آ ملا ہوں اسے

    کچھ اس ادا سے مجھے زندگی نے دیکھا ہے

    جو پورے چاند سے بڑھ کر حسین ہے یارو

    وہ اک ستارہ ہے جس کو سبھی نے دیکھا ہے

    یہ راز چھپ نہیں سکتا ہے میری بستی کا

    ستم کا سیل رواں ہر کسی نے دیکھا ہے

    تو جس بھی روپ میں آئے تو جان جائیں گے

    خیال یار تجھے عاشقی نے دیکھا ہے

    وہی نثارؔ ترابی جبیں کا حاصل ہے

    وہ ایک سجدہ جسے بندگی نے دیکھا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY